Online Short Questions For Chapter 3 "9th Class Islamiat urdu mdeium Mozoaati Motalha "
Try The Short Questions For 9th Class Islamiat urdu mdeium Mozoaati Motalha
Islamiat (New Book) - 9th Class Islamiat urdu mdeium Mozoaati Motalha
Question # 1
سخاوت کی اہمیت کے بارے میں اللہ تعالی کا ایک فرمان بیان کریں-
-
Ans 1: اللہ تعالی نے ایثار کرنے والے لوگوں کو کامیاب قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
" اور وہ اپنے اپ پر ترجحیح دیتے ہیں اگرچہ خود انہیں شدید حاجت ہو".
نبی کریم صلی اللہ تعالی عنہ نے سخاوت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
ترجمہ: سخی اللہ سے قریب ہے ، جنت سے قریب ہے لوگوں سے قریب ہے اور کنجوس اللہ اور جنت سے دور او آگ کے قریب ہے-
Question # 2
سخاوت کی مالی، بدنی اور علمی صورتوں کی وضاحت کریں-
-
Ans 1: سخاوت کو اگر وسیع مفہوم میں دیکھا جائےتو مال و دولت کے ساتھ ساتھ علم ، وقت اور صحت میں بھی انسان سخاوت کرسکتا ہے. علم کی بات اس شخص کو بتانا
جو واقف نہین یہ بھی سخاوت ہے. کسی بیمار اور پریشان حال شخص کو وقت دے
دینا جس سے اس انسان کا دل بہل جائے یہ بھی سخاوت ہے. صحت مند آدمی کا کسی
بیمار بوڑھے اور کزور شخص کے کسی معاملے میں مدد کرنا بھی سخاوت ہے.
Question # 3
غزوہ حنین میں حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کتنے کفارہ کو واصل جہنم کیا؟
-
Ans 1: غزوہ حنین میں حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہ نے تنہا تیس مشرکوں کو قتل کیا، جبکہ مرنے والے کفار کی کل تعداد تین سو زائد تھی- اس غزوہ مین چار مسلمان شہید ہوئے.
Question # 4
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم خاتم النبین نے عبادت میں میانہ روی کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی کو کیا نصحیت کی؟
-
Ans 1: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے عبادات میں میانہ روی اور اعتدال اپنانے کا حکم دیا- حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی خاتم النبین میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا؛ کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تم
رات بھر عبادت کرتے ہو اور دن میں روزے رکھتے ہو؟ مین نے عرض کیا: جی ہاں یہ صحیح ہے-آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کرو، عبادت بھی کرو
اور آرام بھی، روزے بھی رکھو اور کھاؤ پیو بھی، کیوں کہ تمھارے جسم کا بھی تم
پر حق ہے. آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے تم سے ملاقات کے لے آنے والوں بھی تم
پر حق ہے- بیوی کا بھی تم پر حق ہے.
Question # 5
عام الوفود کا معنی اور مفہوم بیان کریں-
-
Ans 1: عام کا معنی"سال " اور وفود جمع ہے وفد کی جس کا معنی لوگوں کی جماعت ہے- عام الوفود سے مراد وہ سال ہے جس میں پورے عرب سے کثرت کے ساتھ وفود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے.فتح مکہ اور غزوہ
حنین کے بعد دور دراز علاقوں مین پیغمبر اسلام خاتم النیبن اور آپ کے جاں نثار
صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کے اعلی اخلاق کے چرچے ہوئے اور لوگوں میں یہ شوق پیدا ہوا کہ ہم بھی اسلام کے بارے میں سمجھ بوجھ حاصل کریں لہیذا بہت سے
علاقوں سے جوق در جوق وفودحاضر ہونے لگے.
Question # 6
فتح مکہ کا واقعہ کب پیش آیا؟
-
Ans 1: 6 ہجری میں صلح حدیبیہ کے موقعے پر عرب قبائل میں سے بنو خزاعہ مسلمانوں کے حلیف بنے ، بنوبکر نے قریش مکہ کا ساتھ دینے کا اعلان کیا اور یہ معاہدہ ہوا
کہ فریقین دس سال تک ایک دوسرے سے جنگ نہیں کرین گے لیکن اٹھارہ ماہ بعد بنو بکر نے اچانک صلح کا معاہدہ توررتے ہوئے، بنو خزاعہ پر حملہ کردیا اور حرم
کعبہ میں بھی بنوخزاعہ پر لڑائی مسلط کی.
Question # 7
نبی کریم صل اللہ تعالی علیہ وسلم خاتم النبین عبادت کا کس قدر اہتمام فرماتے تھے؟ ایک مثال دیں-
-
Ans 1: نماز تمام عبادات میں سے افضل و اشرف عبادت ہے- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین کو نماز اے اس قدر محبت تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین نے
نماز کو اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین کو
خوشی ، مسرت اور زوق نماز میں حاصل ہوتا تھا وہ کسی اور عبادت میں حاصل نہ
ہوتا تھا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی نے رسول اللہ اکرم صلی اللہ علیہ ولسم کی رات کی عبادت
کے بارے میں فرمایا:
"رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین رات کی ابتدائی حصہ میں سوجاتے تھے- پھر اٹھ کر قیام کرتے اور سحری کرتے او سحرتی کے قریب وتر پڑھتے، پھر اپنے بست پر تشریف لاتے- پھر جب ازان (فجر) سنتے تو تیزی سے اٹھ پڑتے-"
Question # 8
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی عبادت کا کیا معمول بیان فرمایا ہے.
-
Ans 1: سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی عبادت کے بارے میں فرمایا:
"رسول اکرم صلی اللہ تعالی رات کے ابتدائی حصہ میں سوجاتے تھے- پھر اٹھ کر
قیام کرتے اور سحری کرتے اور سحری کے قریب وتر پڑھتے ، پھر اپنے بستر پر تشریف لاتے- پھر جب ازان (فجر) سنتے تو تیزی سے اٹھ پڑتے-"
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی فرماتی ہیں کہ جب رمضان المبارک کا آخری
عشرہ آتا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبادت کے لیے خود بھی کمر بستہ جاتے اور اپنے گھر والوں کو بھی عبادت کے لیے جگاتے تھے.
Question # 9
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین کا بہن بھائیوں کے ساتھ حسن سلوک تحریرکریں-
-
Ans 1: آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین کے سگے بہن بھائی نہیں تھے- آپ خاتم النبین کی رضاعی بہن حضرت شیما نبی کریم خاتم النبین کو گود میں کھلایا کرتی تھیں اور پنگھوڑے میں لوریاں دیتی تھیں-امیر حمزہ رضی اللہ تعالی کے رضاعی بھائی بھی
تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دوہرے رشتے کی وجہ سے حضرت حمزہ
رضی اللہ تعالی کے لیے بہت شفقت اور محبت کے جذبات رکھتے تھے- ہمیشہ حسن
سلوک سے پیش آتے تھے-
اعلان نبوت سے پہلے آپ خاتم النبین کے دوستوں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی
اللہ تعالی ، حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی اور حضرت ضماد بن ثغلبہ رضی اللہ تعالی سر فہرست ہیں- یہ تمام احباب نہایت ہی بلند اخلاق اور باوقار لوگ تھے، آپ کے اپنے دوستوں سے تجارتی تعلقات بھی تھے-
Question # 10
فتح مکہ کے موقع پر کن تین صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ کو لشکر کا امیر مقرر کیا گیا.
-
Ans 1: مرالظھران کے مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین نے حضرت خالد بن
ولید رضی اللہ تعالی عنہ کو میمنہ ، حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ، اور حضرت
ابوعبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ کو پیدل لشکر کا امیر مقرر فرمایا. آپ خاتم النبین کا پرچم زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھا.
Submit
Share your comments & questions here
No comments yet. Be the first to comment!